آپ کیسی پوسٹس پسند کرتے ہیں کمینٹس میں ضرور بتایئں

ڈاکٹر صدف کا پاکستانی عوام کے لئے جذباتی پیغام | Dr. Sadaf Said Coronavirus in Pakistan

1 min read
Coronavirus in Pakistan

Reasons Behind the Strike of Young Doctors

! سب کو سلام

میں ڈاکٹر صدف سول اسپتال کراچی میں ٹرینی (ینگ) ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں۔  پچھلے ایک ہفتہ سے میں ایسی پوسٹس دیکھ رہی ہوں جہاں عام لوگ اس خطرناک صورتحال کے باوجود بھی ڈاکٹروں کو بےعزت کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے ہیں اور یہاں تک کہ جعلی خبریں بھی پھیلا رہے ہیں کہ ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔  میں آپ کو کوروناواٸرس کے پھیلنے کے حالات کے متعلق کچھ بتانا چاہتی ہوں اوران دنوں ہماری زندگی کیسی چل رہی ہے وہ آپ کے علم میں لانا چاہتی ہوں۔ پوسٹ تھوڑی لمبی یے لیکن پلیز پڑھیں۔ 

ہم تربیت حاصل کرنے والے(ینگ ڈاکٹروں) کو ہر چوتھے یا پانچویں دن لمبی ڈیوٹی کرنی پڑتی ہیں ، جو ہمارے روزمرہ کے معمول کے فرائض کے علاوہ تقریبا 30 گھنٹے سے بھی زیادہ تک رہتی ہیں۔  آج جب میں اپنی طویل ڈیوٹی کے لئے جارہی تھی تو مجھے زندگی میں پہلی بار اپنے والد سے ڈیوٹی کے لئے گھر چھوڑنے کے لئے لفظی طور پر بحث کرنا پڑی۔ اگرچہ میرا تعلق ایک بہت ہی حمایت خاندان سے ہے۔  یہ بہت مایوس کن تھا کیونکہ ہم پہلے ہی تھکے ہوئے اور پریشان تھے اور اس موقعے پر  ہمارے گھرانے کی حمایت ہمارے لئے سب سے اہم ہے۔  لیکن کرونا کے پھیلنے کے بعد سے وہ ڈاکٹر ہونے کے بجائے ہماری زندگی کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔  جب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو ہمارے دوست اور گھر والے ہمارے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔ کیا آپ ان تمام حلات کو تصور کر کے سوچ سکتے ہیں کہ ایسے حالات میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟ اس کے متبادل ہمیں کہا جاتا ہےکہ آپ کو اسی ڈیوٹی کی ادائیگی کی جاتی ہے؟ مگر افسوس کہ ہمیں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی ادائیگی نہیں کی جاتی ہے اور آپ لوگ بس گھروں میں بھی نہیں رہ سکتے۔  (اس کے علاوی اور بھی ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن کی احتیاط نہیں کی جارہی اور نہ ہی أپ احتیاط برت رہے ہیں)۔

میری بیشتر دوست شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے ہیں ، اور ان میں سے کچھ تو روزانہ مشتبہ مریضوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو روزانہ گھر جانا چاہتے ہیں اور وہ کورونا وائرس کے کیریئر ہونے اور اپنے ہی بچوں اور بزرگوں کو متاثر ہونے کے خوف سے گھر جانے سے خوفزدہ ہیں۔  ذرا تصور کریں کہ ہم اپنے پیاروں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔  یہ سوچ/الفاظ میرا دل توڑ دیتا ہے!  میں جب ہر وقت ڈیوٹی سے گھر واپس آتی ہوں تو میں تنہائی میں رہتی ہوں۔  زندگی میں کبھی نہیں سوچا کہ ایسا بھی کچھ ہوسکتا ہے جہاں ہم اپنے ہی خاندان کو دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ بچوں اور بڑوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ میں گھر میں اپنے والدین اور بچوں سے بالکل ویسے ہی پیار کرتی ہوں جس طرح آپ کرتے ہیں

اگرچہ ہسپتال میں او پی ڈی ایس اور اپریشن/ سرجری وغیرہ کے ڈیپاٹس بند ہیں لیکن پھر بھی ہم وارڈوں اور ایمرجنسیز میں کام کر رہے ہیں جہاں ہم سب کے سامنے اور زیادہ حاضر دماغی سے کام کرنا پڑتا ہے۔ اور زیادہ تر ڈاکٹروں کو براہ راست کورونا کے مشتبہ مریضوں سے نمٹنا پڑتا ہے۔ جبکہ ایمرجنسی اپریشنز ابھی بھی جاری ہیں۔  بیشتر ایسے ڈیپارٹمینٹس بھی آجکل  کام کر رہے ہیں جن کی صرف ہنگامی صورتحال میں ہی ضرورت پڑتی ہے۔  سرکاری اسپتالوں جیسے مقامات پر سیکڑوں افراد فضول میں اِدھر اُدھر گھومتے ہیں جیسے زیادہ تر شہر سے باہر گھومنے پھرنے آئے ہوں۔

لوگ اب بھی اس لاک ڈاؤن کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔  ایمرجسی وارڈ میں ہمارے ساتھی موٹر ساٸیکل سے گرنے والے نوجوان لڑکوں کی ٹریٹمنٹ (علاج) کر رہے کیونکہ وہ چھٹیوں کو سیر و تفریح ​​کیلئے باہر نکلے تھے۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال جو سمجھا جاتا ہے کہ بہترین سیٹ اپ رکھتا ہے۔  ان کے بھی کچھ ڈاکٹرز کو انفکشن ہوگئا ہے۔ بھول جائیں کہ گورنمنٹ ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کیا بنے گا۔

گلگت بلتستان میں ایک نوجوان ڈاکٹر کی موت ہو گئی جبکہ وہ کورونا کے مریضوں کے اسکرینیگ ٹیسٹ کرنے والوں میں شامل تھا۔  اگرچہ 100 فیصد لوگوں نے اس کی تصدیق نہیں کی کہ ان کی موت کیسے ہوئی لیکن ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ حوصلہ مند تھا اور ہاں وہ کورونا مریضوں کی اسکریننگ میں شامل تھا۔  اگر اس خبر کو سچ مانا جاٸے تو اس بات کو بھی زیرِ غور لایا جاٸے کہ ہمارے پاس اس وائرس سے نمٹنے کے لئے مکمل ضروری سامان نہیں ہے اگرچہ یہ سمجھا جارہا ہے کہ یہ نوجوان کے لئے زیادہ مہلک/خطرناک نہیں ہے۔

ہم ڈاکٹروں کو گھر جانے کے بعد اپنے گھر والوں سے الگ تھلگ رہنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔  براہ کرم احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اللہ نہ کرے کہ آپ کے پیارے کو کچھ ہو۔  میرے تمام ڈاکٹر دوستوں نے اسے ملک کی خدمت کا موقع کے طور پر لیا ہے اور وہ اس اہم وقت پر رضاکارانہ طور پر بھی ملک کی خدمت کے لئے تیار ہیں۔ اور مجھے ان پر فخر ہے

ان سب کے باوجود میں ذاتی طور پر یقین کرتی ہوں کہ اگر حالات بگھڑتے ہیں اور صورتحال بدترین ہو جاتی ہے تو ہم ایسی صورتحال سے نہیں نمٹ سکتے۔  حتیٰ کہ ہمارے پاس اتنی سپلائی نہیں ہے یہاں تک کہ ماسک/ گاؤن یا وینٹیلیٹرزر!  تو پھیلاؤ کو بند کرو!  اور اسے پھیلنے سے روکنے میں مدد کرو!  ذمہ دار شہری بنیں!  یہ نہ صرف ہماری بلکہ آپ کی بھی ذمہ داری ہے۔

بہت زیادہ استغفار کرتے رہو!  اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ہمدرد بنیں۔  بہت سے لوگ اپنی روز مرہ کی کماٸی کھو چکے ہیں

آخر میں ہم ان لوگوں سے معافی مانگتے ہیں جنہیں ہماری وجہ سے تکیف پہنچی ہیں۔ مگر یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں کیا ہے!  ہم اکثر کھانا پینے کو فوقیت نہیں دیتے۔  ہم نے معمول کی گپ شپ کو بھی فوقیت نہیں دے رہے جس پر آپ انصاف کیے بغیر کچھ نہیں کہ سکتے۔  کیا آپ کبھی بھی اس صورتحال میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال سکتے ہو؟  یقینناً ایسے کوئی نہیں کرے گا۔  ہمیں صرف آپ کی سپورٹ (اخلاقی مدد) کی ضرورت ہے!  یہی ہے.
کہ آپ لوگ گھروں میں رہیں! چلو ایک دوسرے کے ساتھ رہو مگر پھیل جاؤ اور اسے شکست دے دو
پڑھنے کے لئے شکریہ ❤
Click Here Read Original Message in English

مزید کالم پڑھیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Contacts Mini Google